دل نوازی
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - توجہ، تسلی، مہربانی، عنایت، ناز و نخرے۔ "آغا صاحب نے دلنوازی سے قہقہہ لگایا۔" رجوع کریں: ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٥٠٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکب 'دِل نَواز' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٤٠ء سے "ملک خوشنود (اردو شہ پارے)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - توجہ، تسلی، مہربانی، عنایت، ناز و نخرے۔ "آغا صاحب نے دلنوازی سے قہقہہ لگایا۔" رجوع کریں: ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٥٠٧ )